کشمیر کونسل سویڈن کے وفد کی چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا سے اہم ملاقات

سٹاک ہوم ( نارڈک ٹائمز اردو سے ) اسلام آباد میں کشمیر کونسل سویڈن کے صدر سردار تیمور عزیز کشمیری اور انفارمیشن سیکریٹری سردار مبشر احمد خان نے چیئرمیناوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں چیئرمین کے مشیر اعجاز راجہ سمیت دیگر متعلقہشخصیات بھی موجود تھیں۔

IMG 2684

واضح رہے کہ اس وقت سید قمر رضا جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اور ریاستِ پاکستان کے درمیان جاری مذاکراتیعمل میں ایک اہم رابطہ کار اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران دو اہم موضوعات زیرِ بحث آئے، جن میں سب سے نمایاں پونچھ کی موجودہ صورتحال تھی۔

صدر کشمیر کونسل سویڈن اور چیئرمین جموں کشمیر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سردار تیمور عزیز کشمیری نے اس موقع پر کہا کہ انہیںامید ہے کہ موجودہ صورتحال جلد افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حلہمیشہ مذاکرات، اعتماد اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ہوتا ہے۔

سید قمر رضا نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کی جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے بالخصوص سدوزئی قبیلے کی تاریخ اور پونچھ کے عوام کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

پونچھ کے لوگ انتہائی مہمان نواز، عزت دینے والے، باوقار اور سخت جان لوگ ہیں۔

اس پر سردار تیمور عزیز کشمیری نے کہا:

سر! ہم پہاڑوں میں رہنے والے لوگ ہیں۔ جب کوئی وفاقی وزیر، ذمہ دار شخصیت یا ریاست کی جانب سے ہمارے ساتھ کوئیتحریری معاہدہ یا وعدہ کیا جاتا ہے تو ہم اس وعدے کو محض ایک کاغذ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک عہد تصور کرتے ہیں۔ اسیلیے جب ایسے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو عوام اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کے نفاذ کا مطالبہ کرتےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تحریک کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ اپنی آبائی زمین سے شروع ہوئی۔ ابتدا ٹائیں (Tain) میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں اور ٹاورز کے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے مسئلے سے ہوئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک وسیععوامی تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔

سردار تیمور عزیز کشمیری نے کہا:

ریاست ہمارے لیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ کسی بھی صورت مزید جانی نقصان نہیں ہوگا۔ اگرماضی میں کیے گئے معاہدوں پر بروقت اور سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جاتا، اور انہیں صرف ایک رسمی دستاویز نہ سمجھا جاتا، توآج نہ یہ صورتحال پیدا ہوتی اور نہ ہی پاکستان کو عالمی سطح پر اس قسم کی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ماضی میں اوورسیز کشمیریبھارتی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کرتے تھے، لیکن آج انہیں پاکستان کے سفارت خانوں کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوناپڑا، جو یقیناً ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

اس موقع پر سید قمر رضا نے کہا:

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ لازوال ہے۔ یہ صرف سیاسی تعلق نہیں بلکہ خون، تاریخ، ثقافت اور رشتوں کا تعلق ہے۔ ہم ایکتھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا اور ماضی کے معاہدوں پر عمل ہونا چاہیے تھا۔اب جو بھی معاہدہ ہوگا، ہم پوری کوشش کریں گے کہ وہ صرف کاغذی معاہدہ نہ رہے بلکہ ایک ایسا وعدہ ہو جس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔